ضم شدہ قبائلی اضلاع کی آواز

قبائلی اضلاع میں 70 ہزار طلباء نصابی کتابوں سے محروم، سینکڑوں سکول تاحال تباہ حال

ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک دہشت گردی کے خلاف جنگ کی زد میں رہنے والا سابقہ فاٹا میں آج شعبہ تعلیم کی صورتحال بدترین سطح پر آگئی ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہائیوں تک جاری رہنے والی دہشت گردی کے خلاف  جنگ کے نتیجے میں تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ جو پہلےسے بھی ایک تباہ حال شعبہ تھا ۔ سابقہ فاٹا کے محکمہ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق کل 1195 تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 555 ادارے مکمل طور پر تباہ اور باقی کو جزوی طور پر   نقصان پہنچایا گیا ہے۔

قبائلی اضلاع میں جنوبی وزیرستان سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع ہے جہاں 204 تعلیمی ادارے نشانہ بن گئے۔ جبکہ خیبر میں  180، کزئی میں 149 اور مہمند میں 127 ادارے تباہ ہو گئے۔

تعلیم جیسے اہم ترین شعبے  کو اتنے بڑے پیمانے پر ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے حکومت سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ  جو اب خیبر پختونخوا کے انتثامیہ کا حصہ بن چکا، تباہ حال تعلیمی اداروں کی بحالی پر ساڑھے تین بلین روپے کی خطیر رقم ان جنگ زدہ علاقوں میں تعلیم پر لگا رہی ہے۔ فاٹا سیکرٹریٹ کے مطابق یہ رقم اداروں  کی تعمیر نو، تعلیم  کے فروغ اور نئے انفراسٹرکچر پر کرچ کی جائے گی۔

education in ex-fata, tribal districs
عمارت منہدم ہو جانے کی وجہ سے ٹینٹ کلاس رومز قائم کیے گئے ہیں جن میں بچوں کی تعداد ایک تہائی سے بھی کم ہے

فاٹا سیکرٹریٹ کے دعوؤں کے مطابق شعبہ تعلیم کی بحالی اور بہتری کے لئے شروع کئے  گئے 59 بڑے پروجیکٹس میں پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں۔فاٹا سیکرٹریٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر محمد شعیب نے کہا؛ "1195 اداروں میں سے 892 پر تعمیر نو کا کام شروع ہے۔جبکہ باقی  پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔ ہماری ہر کوشش تعلیم کو فروغ دینا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے عارضی بندوبست کرکے خیموں میں بھی کلاس رومز قائم کیے ہیں اور جزوی طور پر تباہ شدہ عمارتوں پر بھی کام تیزی کرنے لگے ہیں۔”

اگرچہ حکومت شعبہ تعلیم کی بحالی پر تیزی سے کام کرنے کا دعوے کر رہی تا ہم مقامی افراد شکایتیں کر رہے ہیں کہ حکومت نے کئی بار سکولوں کی تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر نو   اور  انفراسٹرکچر  کی فراہمی کے لئے سروے کئے ہیں لیکن عملی طور پر ابھی تک کچھ نظر نہیں آرہا۔

ایک طرف حکومت نے بڑے پیمانے پر اندراج  کے مہم ماس انرولمنٹ کمپین کا آغاز کر دیا ہے۔ محمد شعیب نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا؛  ” پچھلے سال ایک لاکھ تیس ہزاربچوں کا اندراج کر دیا ہے اور اس سال دو لاکھ  بچوں کے انرولمنٹ تک کا ہمارا  ہدف ہے۔  محکمہ تعلیم کے  اہلکار، مقامی انتظامیہ، سیکورٹی فورسز، علمائے کرام اور قبائلی عمائدین  سب اس ہدف کو حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔”

دوسری  طرف  بچے کئی علاقوں میں بجلی ، بیت الخلاء اور پینے کے پانی جیسی اہم اور ضروری سہولیات کے بغیر کھلے آسمان تلے یا خیموں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ قبائلی ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ میں گورنمنٹ ہائی سکول عالم گودر کے پرنسپل جانس خان نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا کہ ان کا سکول سب سے زیادہ متاثرہ سکولوں میں سے ایک ہے۔ سکول کی عمارت سمیت کوئی بھی چیز قابل استعمال نہیں۔

Sponsored Topics

"حالیہ عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے پہلے ہمارے سکول کی تعداد تھی، جبکہ آج صرف طلباء رہ گئے ہیں۔ کیوں کہ سکول کی عمارت کی حالت اس قابل نہیں کے بچے  یہاں آ کر پڑھ سکیں۔یہاں نہ بجلی کی سہولت اور نہ پینے کا پانی میسر ہے۔ صرف ایک خیمہ ہے جس میں ہم نے بچوں کو بٹھا رکھا ہے،”  پرنسپل جانس خان نے بتایا۔

زیر نظر تصویر میں کلاس روم کو حکومت جزوی طور پر تباہ شدہ قرار دیتی ہے جس کا ٹوٹی دیواروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں بچا ہے۔

باڑہ تحصیل میں  چین کے تعاون سے پاکستانی حکومت کو چینی حکومت کے 1628 میلن روپے کے ایک منصوبے کے تحت 68 سکولوں کی تعمیر نو پر کام کرنا تھا۔ تاہم کئی ماہ کی تاخیر کے بعد بھی ابھی تک اس منصوبے پر عمل درآمد نہیں کرایا جا سکا۔  محمکہ تعلیم کے ایک سینئر اہلکار نے ٹرائبل پوسٹ کو  نام ظاہر نہ ہونے کی شرط پر   بتایا کہ اس منصوبے پر کام جاری ہے اور  محکمانہ طریقہ کار بھی مکمل ہو گیا ہے۔ جلد ہی اس کے لئے ٹینڈرز کا اشتہار دیا جائے گا۔لیکن تا حال مشتہر نہیں کیا گیا ہے۔

قبائلی ضلع مہمند بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عسکریت پسندی سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ سابقہ فاٹا ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کل 127 تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے تھے جن میں 75 پر تعمیر نو کا کام جاری ہے۔ محکمہ تعلیم کے ایک سینئر اہلکار خائستہ خان  نے تسلیم کرتے ہوئے  کہا کہ ہزاروں  طلباء ابھی  بھی نصابی کتابوں سے محروم ہیں۔ "پورے مہمند میں کل 70000 بچوں کا  سکولوں میں انرولمنٹ ہو چکا ہے۔ جن کے لئے ہم نے پچھلے سال اپریل کے مہینے میں کتابوں کا مطالبہ کیا تھا۔مگر صرف 41000 بچوں  میں سے ہر ایک کو کوئی ایک یا دو کتابیں ملی ہیں۔ جبکہ باقی 29000 بچے ابھی تک بغیر نصابی کتابوں کے ہیں،”  خائستہ خان نے بتایا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن قبائلی اضلاع محمد شعیب  سے جب کتابوں کی عدم دستیابی کے بارے میں ہم نے بات کی تو انہوں نے  کہا کہ ہر کام کو ایک مخصوص طریقہ کار کے مطابق سر انجام دینا تھا۔ "خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بکس بورڈ سے  درکار کتابوں کا مطالبہ کیا گیا ہے اور قبائلی اضلاع کے سابقہ فاٹا سیکرٹریٹ میں کتابوں کی تقسیم کا نطام بھی موجود ہے لیکن قبائل کا بے گھر ہونے کی وجہ سے  مشکلات کا سامنا ہے۔”

دو ورکرز خالی میدان میں کلاس روم بنانے میں مصروف ہیں

غیر سرکاری تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق  جنگ زدہ  قبائلی اضلاع میں لڑکیوں  کی شرح خواندگی   3فیصد سے بھی کم ہے۔ سکولوں کی تباہی کے علاوہ ایک وجہ اس کی یہ بھی ہے کہ وہاں جب لڑکی پانچویں جماعت تک پہنچ جاتی ہے تو اس کو سکول سے نکالا جاتا ہے۔ محمد شعیب نے کہا کہ حکومت اس بارے میں شعور و آگاہی کے مختلف پروگرام شروع کرے گی۔ تاکہ شرح خواندگی کو بہتر کیا جا سکے۔

اس سلسلے میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تعاون سے حکومت ایک اور منصوبہ شروع کر رہی ہے  جس میں چٹھی سے دسویں جماعت تک کی طالبات کو فی کس ایک ہزار روپے ماہانہ وظیفہ  دیا جائے گا۔ تاکہ خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جائے  اور اس میں مزید بہتری لائی جا سکے۔ تاہم ان سب دعوؤں، منصوبوں اور اقدامات کے باوجود ہزاروں بچے آج بھی بنیادی نصابی کتابوں سے محروم، سینکڑوں سکول عمارتوں سے اور سینکڑوں پینے کے پانی، بیت الخلاء اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جس کے مقابلے میں حکومت طرف سے کیے گئے  اقدامات ابھی تک محض دعوؤں، اعلانات اور کاغذی کاروائیوں تک محدود ہیں  ۔

مزید پڑھیں
جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.