ضم شدہ قبائلی اضلاع کی آواز

59 ہزار سے زائد بے گھر خاندان 9 سال بعد بھی حکومتی مدد سے محروم

جنوبی وزیرستان میں ملٹری اپریشن راہ نجات 2009 کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے آدھے سے زائد خاندان 9 سال کے بعد بھی آئی ڈی پیز کے لئے مختص امداد سے محروم ہیں۔

ملٹری اپریشن راہ نجات کی وجہ سے بے گھر ہونے والے افراد کے لئے مختص مالی امداد کے حصول کے لئے حبیب الرحمان ہر روز ڈیرہ اسماعیل خان کے سرکاری دفاتر کا چکر لگاتا پھرتا ہے۔ لیکن اس کے بقول سرکاری عملہ ہر بار انکار کر دیتا ہے۔ "ہمیشہ جب ہم بے گھر افراد کی مدد میں سے اپنے لئے مطلبہ کرتے ہیں، راشن مراکز پر موجود سرکاری اہلکار امداد دینے سے انکاری ہوجاتے ہیں،” اس کا کہنا ہے۔

حبیب الرحمان ایک کالج طالبعلم ہے جو 2009 میں ملٹری اپریشن راہ نجات کی وجہ سے اپنا گاؤں لدھا چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان ہجرت کر گیا۔ دیگر 2 ملین بے گھر والے لوگوں کی طرح اس کے خاانددان کو بھی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی وزیرستان کا محسود قبیلہ صدیوں سے موسم سرما میں سخت سردی اور برف باری کی وجہ سے متصل اضلاع ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان منتقل ہوجاتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے اسی مقصد کے لئے مذکورہ اضلاع میں عارضی مکانات اپنائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کے قومی شناختی کارڈز پر دہرا (عارضی) پتہ بھی درج ہے۔ اور دہرے پتے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کو مالی امداد کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

دوتوئی گاؤں کے رہائشی جو اب بے گھر ہو کر ڈیرہ اسماعیل میں رہ رہا ہے نے ان مشکلات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: "دہرے پتے کی وجہ سے سرکاری اہلکار محسود قبیلے کے بے گھر افراد کو ان کے لئے مختص مالی امداد کے اہل نہیں مانتے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان سے باہر رہنے والے افراد کو بے گھر افراد کے زمرے میں نہیں شمار کیا جاتا، یہ ایک سنگین مسئلہ ہے”

شناختی کارڈ پر دہرے عارضی پتے کی وجہ سے کالج اسٹوڈنٹ حبیب الرحمان کی طرح 59 ہزار سے زائد بے گھر افراد پچھلے 9 سالوں سے انہی کے لئے مختص امداد کے حصول سے محروم ہیں۔

جبکہ حکومتی موقف کو واضح کرنے کے لئے فاٹا ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی ایم ایے) کے ایک اہلکار سید عمر محسود نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا کہ یہ وہ افراد ہیں جن کے پہلے سے متصل اضلاع میں گھر موجود ہیں جس کی وجہ سے ان کو بے گھر افراد کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا مزید کہنا ہے: "جس شخص کے قومی شناختی کارڈ پر مستقل اور عارضی پتہ مختلف ہے اس بے گھر افراد کی امداد میں حصہ نہیں دیا جائے گا۔ اور یہ قانون ہے۔”

ایف ڈی ایم اے کے مطابق کُل 48062 خاندان بطور آئی ڈی پیز (بے گھر ہونے والے افراد) رجسٹر ہو چکے ہیں جبکہ 59559 خاندان شناختی کارڈ پر ڈبل ایڈریس ہونے کی وجہ سے رجسٹرڈ نہیں ہو پائے ہیں جنہوں نے تا حال کوئی سرکاری امداد حاصل نہیں کی ہے۔ تاہم مذکورہ رجسٹریشن سے محروم خاندانوں کو گذستہ 9 سالوں کے دوران مختلف راشن مراکز پر مالی امداد اور راشن جیسی سہولیات انسانیت کی بنیاد پر دی گئی ہیں۔

ارباب خان کا خاندان بھی رجسٹریشن سے محروم شدہ خاندانوں میں شامل ہے۔ انہوں نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا: "رجسٹریشن کی بات تو چھوڑیں، جن کی رجسٹریشن ہوئی ہے وہ بھی امداد کی حصولی کے لئے قطار در قطار انظار کرتے رہتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے صدائے امن بنک (اے ٹی ایم) کارڈز رجسٹرڈ خاندانوں کو دیے تھے تاہم منسلک بنک اکاؤنٹس میں پیسے (کریڈٹ) نہیں ہوتے۔

"ہمارے مسمار شدہ مکانات کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے چار لاکھ فی مکان امداد کا اعلان ہوا تھا، وہ بھی ابھی تک ہمیں نہیں ملا، حالانکہ ہمارے مکانات کی قیمت مقررہ رقم سے بہت زیادہ ہے،” ارباب خان نے کہا: "صرف اس وجہ سے کہ ہمارے شناختی کارڈز پر ڈبل ایڈریس درج ہیں ہمیں مدد سے محروم کرنا نا انصافی ہے۔ ہم سب متاثر ہوئے ہیں ہمارے بچے مارے گئے اور ہمارے مستقل مکانات بے دردی سے تباہ کیے گئے۔”

آئی ڈی پیز واپس جانا چاہتے ہیں۔

محسود قبیلے کے متاثرین چاہتے ہیں کہ جلد از جلد ان کے تباہ شدہ مکانات دوبارہ تعمیر ہوجائے اور وہ اپنے آبائی علاقوں واپسی کریں۔ رستم شاہ دیرہ اسماعیل خان میں ایک پرائویٹ سکول چلاتے ہیں، اس کا 9 ممبرز پر مشتمل خاندان بھی شناختی کارڈ پر دہرے پتہ درج ہونے کی وجہ سے بطور بے گھر افراد رجسٹریشن سے محروم ہیں۔

نیشنل ٹیسکٹائل یونیورسٹی فیصل آباد سے گریجویشن کرنے والے رستم شاہ نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا: "ہم 5 سالوں کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں لیکن تا حال ہمیں آئی ڈی پیز تسلیم نہیں کیا گیا۔ – ہم واپس جانا چاہتے ہیں لیکن ہماری پوری جائدادیں تباہ ہوئی ہیں جن کو دوبارہ تعمیر کرنے کے اخراجات ہماری استطاعت سے زیادہ ہیں۔”

جو واپس گئے وہ دوبارہ بے گھر ہوئے

کئی خاندان اپنے آبائی گاؤں واپس بھی چلے گئے تاہم جب ان کے مکانات انہیں وہاں تباہ شدہ حالت میں ملے تو وہ دوبارہ بے گھر ہو کر ٹانک یا ڈیرہ اسماعیل خان آگئے۔ ایسے خاندانوں میں ایک آدم خان کا خاندان شامل ہے۔ وہ جب اپنے آبائی گاؤں لدھا واپس گئے تو وہاں ان کا مکان تباہ شدہ ملا ان کو۔

"حکومت کی طرف سے ہمارے مکانات کا پہلے سروے کیا گیا ور ہمیں بتایا گیا کہ ہم واپس جا سکتے ہیں۔ تاہم ہمارے مکانات تباہ ہوئے ہیں اور ابھی تک ان کی دوبارہ تعمیرکے لئے کوئی معاونت فراہم نہیں کی گئی،” آدم خان نے کہا، "ہمارے گاؤں بھوت اور جنات کے قصبے کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ہر طرف تباہی نظر آرہی تھی۔ اب اگر ہمیں کوئی مالی مدد مل جائے اور ہم اپنے مکانات دوبارہ تعمیر کریں تو ہم واپس جا سکتے ہیں۔”

متاثرین کے لئے حکومت کی طرف سے مکانات کی دوبارہ تعمیر کے لئے چار لاکھ روپے فی خاندان کا اعلان کیا گیا ہے۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ رقم ناکافی ہے۔

ایک مقامی سماجی کارکن سعید انور کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب جتنا بھی دوبارہ آبادکاری کا کام کیا ہے وہ صرف کاغذات پر موجود ہے جبکہ اصل میں ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔ "ہماری جائیدادیں ہم نے صدیوں سے قائم کر رکھی تھیں جنہیں مہینوں میں تباہ کر دیا گیا۔ اب اگر ہم واپس جاتے ہیں تو وہاں ہمیں طرح طرح کی رکاؤٹیں اور مشکلات کا سامنا ہے۔”

"ہم واپس جا کر پہلے کی طرح نہیں رہ پائیں گے۔ ہمارے گھر، ہماری زرعی زمینیں اور سڑکیں سب کچھ تباہ ہوا ہے۔ ایسی صورتحال میں وہاں کوئی بھی رہنا نہیں چاہتا ہے،” سعید انور نے ٹرائبل پوسٹ کو بتایا۔

"ہم نے شناختی کارڈ پر دہرے پتے اور مکانات کے لئے کافی مال مدد نہ ہونے جیسے مسائل پر کئی بار احتجاج کیا۔ سیفران اور دوسرے اہم سرکاری اداروں اور اہلکاروں سے ملاقاتوں میں اپیل کی کہ متاثرین کی صحیح معنوں میں مدد کی جائے۔ لیکن تا حال کوئی عملی اقدام نظر نہیں آیا،” سعید انور نے کہا۔

قبائلی سردار ملک حسن خان کا تعلق کوٹکائی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا: "بے گھر ہونا خود ایک بہت بڑی ناانصافی ہے لیکن ستم بالائے ستم ہی کہ ہمیں بطور پر آئی ڈی پیز بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے۔ ہم میں سے ہر کسی کا مکان تباہ ہو گیا ہے۔ چاہے رجسٹرڈ ہو یا نان رجسٹرڈ۔ ہم نے سخت اور کھٹن حالات میں ہجرت کی، یہاں ہوٹلوں میں رہیں۔ جب رجسٹریشن کے لئے جاتے ہیں تو ہمیں انکار کیا جاتا ہے۔”

ایف ڈی ایم اے کے کوآرڈینیٹر سید عمر کا کہنا ہے: "ہم نے سب کو تباہ شدہ مکانات کے سروے میں شامل کیا ہے چاہے وہ بطور آئی ڈی پیز رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ ان کو تعمیر ق ترقی کے کاموں میں حصہ دیا جائے گا۔ تاہم پہلے رجسٹرڈ خاندانوں کو ترجیح دی جاےئ گی۔”

مزید پڑھیں
جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.